Posts

رخصت ہوتے وقت خدا حافظ کہنا

حكم قول : "في حفظ الله" أو "في أمان الله" عند مفارقة الإخوان بعد اللقاء عندي توقُّفٌ في مَنع قولِ : "في حفظ الله" أو "في أمان الله" ونحو ذلك مما يقوله إخواننا في الهند : "خدا حافظ"   عند مُفارقة الناس بعضِهم لبعضٍ عموما . وذلك لأنه دعاء من الأدعية ، لا يتقيَّد بوقت ، ولا بأس به . وقد جاء عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ: أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا اسْتُوْدِعَ شَيْئًا حَفِظَهُ " [مسند أحمد 5605- 5606 ] . ويؤخذ من إطلاق اللفظ في الرواية أنه يجوز استيداع أي شيء إلى حفظ الله ، من الأهل والولد والمال . لكن ربما يقيِّد بعضُ الناس هذه الرواية ويخصُّها بحال السفر وتشييع المسافر استدلالا بعموم الروايات التي ورد فيها أنها تقال في ذلك الوقت ، مثل حديث ابن عمر رضي الله عنهما أَنه أَرَادَ أَن يودِّع رجلا فَقَالَ : تعالَ أودِّعك كَمَا كَانَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم يودِّعنا : أستو...

ربیع بن صبیح اور ان کی مرویات

  الربيع بن صَبِيح والجَعديات پرسنل پر ایک صاحب نے ایک پرچہ ارسال کیا جس میں امام ربیع بن صبیح کی چند مرویات درج ہیں ، اور دریافت کیا کہ : یہ وہی محدث ہیں جو گجرات میں مدفون ہیں ؟ میں نے کہا : ہاں وہی ہیں ۔ پھر مجھے خیال آیا کہ انہوں نے یہ مرویات کہاں سے جمع کیں ؟ تفتیش کرنے سے مجھے ربیع بن صبیح کی روایات ترمذی، ابن ماجہ ، مسند احمد ،مسند بزار، ابن حبان ،معانی الآثار اور متعدد کتابوں میں ملیں ۔ اور کیوں کہ ربیع بن صبیح متکلم فیہ ہیں ، اس لئے کامل ابن عدی کی طرف رجوع کرنے سے وہاں ان کی   متعدد احادیث یکجا مل گئیں ۔ پھر ذہبی کی سیر اعلام النبلاء (6/ 658) میں ربیع بن صبیح کے ترجمہ میں ایک عبارت پڑھی :   تُوُفِّيَ غَازِياً بِأَرْضِ الهِنْدِ ، وَلَهُ فِي "الجَعْدِيَّاتِ". (جعدیات) کے لفظ سے خیال آیا کہ وہی (مسند ابن الجعد) مراد ہوگا ، وہاں جاکر دیکھا تو ربیع بن صبیح کی مرویات (ص ۴۶۰) پر ملیں ۔لیکن (مسندابن الجعد)مطبوع کی ورق گردانی سے ایک کھٹک محسوس ہوئی کہ اس کی ترتیب مسانید کے طریقہ پر نہیں ہے ، بلکہ یہ تو مشایخ پر ہے ، یعنی (معاجم شیوخ) کی طر ح ہے۔ تو...

واذہب حزن قلبی والا درود شریف

واذہب حزن قلبی والا درود شریف سوال : کیا اس صیغہ سے کوئی درود احادیث کی کتب میں مخصوص فضیلت کے ساتھ وارد ہے ( اللهم صلِّ على سيدنا محمَّد ، اللهم صلِّ عليه وسلِّم وأذهِبْ حُزنَ قلبي في الدنيا والآخرة ) . جواب : درود شریف کا یہ صیغہ احادیث کی کتابوں میں مجھے نہیں ملا ، ہاں یہ شیخ علی بن محمد حبشی حضرمی متوفی سنہ 1333 ھ کی طرف منسوب ہے ۔ اسی طرح اس کی مخصوص تعداد کے مطابق   پڑھنے پر جو فضیلت ذکر کی جاتی ہے اس کا بھی ثبوت احادیث سے ممکن نہیں ہے ۔ البتہ شیخ موصوف کے مجربات کی قبیل سے ہوسکتا ہے ، پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، انتہی باختصار ۔ رقمہ العاجز : محمد طلحہ بلال احمد منیار 24/10/2017

کیا مشورہ وحی کا بدلہ ہے ؟

کیا مشورہ وحی  کا بدلہ ہے ؟ سوال : بعض عوام الناس مشورہ کے آداب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: مشورہ وحی کا بدلہ ہے ۔کیا یہ بات صحیح ہے ؟ الجواب: يُستأنَس له بقول الصديق رضي الله عنه حينما شاور الصحابة في بعث جيش أسامة : (قد علمتم أن مِن عَهد نبيكم إليكم : المَشُورةَ فيما لم يَمضِ فيه من نبيكم سُنةٌ ، ولم يَنزِل به عليكم كتابٌ ، وقد أشرتم وسأشير عليكم . فانظروا أرشدَ ذلك فائتمروا به ، فإن الله لن يجمعَكم على ضلالة) . (كنز العمال 30269) وغيره . فجعل الصدّيقُ المشورةَ بديلةً عن الوحيين الكتاب والسُّنة . قال الزمخشري رحمه الله في تفسير قوله تعالى : ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾ يعني أمر الحرب ونحوه مما لم يَنزِل عليك فيه وحيٌ لتستظهر برأيهم ، ولِمَا فيه من تطييب نفوسهم ، والرفع من أقدارهم . وفي كتاب ( السياسة الشرعية ) لابن القيم : الفصل السابع : المشاورة لا غنى لولي الأمر عن المشاورة ، فإن الله تعالى أمر بها نبيَّه صلى الله عليه وسلم فقال تعالى : ﴿فاعف عنهم واستغفر لهم وشاورهم في الأمر فإذا عزمت فتوكل على الله إن الله يحب المتوكلين ﴾ . وقد روي عن ...

حضور کی چادر

مُلاءةُ الرَّسول (حضور کی چادر) سوال : حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی غربت اور فقر کے متعلق ایک مشہور روایت ہے کہ : حضور ایک صحابی کے ساتھ ان کے گھر آئے تو پردہ کے لئے ان کے پاس کپڑا نہیں تھا ،   تو حضور نے اپنی چادر اندر بھیجی ... الخ   اس روایت کی تحقیق اور عربی عبارت ارسال فرمادیں . الجواب : یہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے ، واقعہ طویل ہے ۔ اس میں سے مطلوبہ عبارت یہ ہے : قَالَ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ  ، عَن عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قال :خَرَجْتُ يَوْمًا فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَقَالَ لِي: " يَا عِمْرَانُ إنَّ فَاطِمَةَ مَرِيضَةٌ فَهَلْ لَكَ أَنْ تَعُودَهَا " قَالَ: قُلْتُ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي وَأَيُّ شَرَفٍ أَشْرَفُ مِنْ هَذَا قَالَ: " انْطَلِقْ " فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَى الْبَابَ فَقَالَ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أأَدْخُلُ؟ " فَقَالَتْ: وَعَلَيْكُمُ ادْخُلْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَ...

معافی مانگنے والے کو معاف نہ کرنا

معافی مانگنے والے کو معاف نہ کرنا سوال : کیا کوئی ایسی حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ : اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان سے معافی مانگے ، اور وہ کہے : میں معاف نہیں کرتا ، تو وہ کل قیامت میں حوض کوثر پر میرے پاس نہ آ ئے . الجواب بعون الملك الوهاب : جی ہاں اس طرح کا مضمون مندرجہ ذیل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی روایت سے منقول ہے،لیکن ہر ایک سے صحیح سند سے ثابت نہیں   ہے: 1- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا (ثابت نہیں) 2- حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ (موضوع) 3- حضرت علی رضی اللہ عنہ (ضعیف جدا) 4- حضرت جابر رضی اللہ عنہ  (لا يثبت) 5- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (ضعيف) حضرت عائشہ اور حضرت انس کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ( ومن اعتذر إلى أخيه المسلم من شيء بلغه عنه فلم يقبل عُذره لم يَرِدْ عَلَيَّ الحوضَ ) . حضرت ابو ہریرہ کی روایت اس طرح ہے : (... ومن أتاه أخوه متنصّلا فليقبل ذلك منه ، مُحِقّا كان أو مُبطِلا ، فإن لم يفعل لم يَرِدْ عليَّ الحوضَ ) . وبنحوه حديث علي . اورحضرت جابر کی حدیث ہے : ( من تُنُصّل إليه ف...

اطلبوا العلم من المہد الی اللحد کی تحقیق

طلب العلم من المهد الى اللحد استفسار: ) اطلبو العلمَ من المَهْد الی اللَّحد ( کیا یہ جملہ حدیث میں ہے؟ اور اس کی نسبت امام احمد بن حنبل کی طرف صحیح ہے ؟ برائے مہربانی بتائیں۔ الجواب بعون الملک الوھاب: يقول الشيخ عبد الفتاح أبو غدة في كتابه ( قيمة الزمن عند العلماء ص 29)   : هذا الكلام : " طلبُ العلم من المَهد إلى اللَّحد" ويُحكى أيضا بصيغة " اطلبوا العلم من المَهد إلى اللحد": ليس بحديث نبوي، وإنما هو من كلام النّاس، فلا يجوز إضافتُه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم كما يتناقله بعضهم....وهذا الحديث الموضوع: " اطلبوا العلم من المهد إلى اللحد"مشتهرٌ على الألسنة كثير، ومن العجب أن الكتب المؤلفة في " الأحاديث المنتشرة" لم تذكره. أما قول الإمام أحمد فكما ذكره ابن مُفلِح في "الآداب الشرعية : قَالَ صَالِحٌ : رَأَى رَجُلٌ مَعَ أَبِي مِحْبَرَةً فَقَالَ لَهُ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ! أَنْتَ قَدْ بَلَغْتَ هَذَا الْمَبْلَغَ وَأَنْتَ إمَامُ الْمُسْلِمِينَ! فَقَالَ : مَعِي الْمِحْبَرَةُ إلَى الْمَقْبَرَةِ . ولا يصحُّ عن الإمام أ...