Posts

Showing posts from 2016

اعضاء وضوء کی دعا

وضو کے دوران ہر عضو کے دھوتے وقت جو دعا پڑھی جاتی ہے کیا یہ حدیثوں سے ثابت ہے ؟ اگر ہے تو حوالہ کے ساتھ ارسال فرمائیں  عین نوازش ہوگی۔ الجواب : ہر عضو پر جو دعا پڑھی جاتی ھے وہ حضرت انس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کی روایت سے نقل کی جاتی ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث : عن أنس قال: دخلتُ على رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وبين يديه إناء مِن ماء ،فقال لي: (يا أنس ادنُ مِنّي أُعلِّمك مقادير الوضوء). فدنوتُ مِن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فلمّا غسل يديه قال: (بسم الله والحمد لله ولا حول ولا قوة إلا بالله). فلمّا استنجى قال: (اللهمّ حصِّن فرجي ويسِّر لي أمري). فلمّا أن تمضمض واستنشق قال: (اللهم لقِّني حجتك ولا تحرمني رائحة الجنة). فلمّا أن غسل وجهه قال: (اللهم بيِّض وجهي يوم تبيض الوجوه). فلمّا أن غسل ذراعيه قال: (اللهمّ أعطني كتابي بيميني). فلمّا أن مسح يده على رأسه قال: (اللهمّ تغَشَّ برحمتك وجنِّبنا عذابك). فلمّا أن غسل قدميه قال: (اللهمّ ثبِّت قدمي يوم تزل فيه الأقدام).ثم قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: (والذي بعثني بالحق يا أنس ما مِن عبدٍ قالها عند وضو

ختم قرآن پردعا کی قبولیت

ایک بات یہ مشہور ہوچکی ہے کہ: ختم قرآن کے موقعہ  پر دعاء قبول ہوتی ہے ، کیا کسی حدیث سے ثابت ہے؟ الجواب : جی ہاں ، یہ بات احادیث وآثار تابعین سے ثابت ہے ، اس سلسلہ میں جتنی  مرفوع احادیث ذکر کی جاتیں ہیں ،  تو وہ شدت ضعف سے موصوف ہیں ، یا پھر موضوع ۔ احادیث مرفوعہ الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم : 1- حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ هَارُونَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى صَلَاةَ فَرِيضَةٍ فَلَهُ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، وَمَنْ خَتَمَ الْقُرْآنَ فَلَهُ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ» المعجم الكبير للطبراني  (ج18/ ص 259/حدیث 647) . في سنده : عبد الحميد بن سليمان الخزاعي أخو فليح وهو ضعيف . 2- حديث أنس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ( إن لصاحب القرآن عند كل ختمة دعوة مستجابة ، و شجرة في الجنة ، لو أن غرابا طار من أصلها لم ينته إلى فرعها حتى يدركه الهرم ) .أخرجه ا

وضوء سے فارغ ہونے کے بعد آسمان کی طرف نظر اٹھانا

سوال : ابوداود شریف کی روایت میں ( ثم رفع نظره الی السماء ) کی زیادتی ، کیا منکر اور غیر معتبر ہے ؟ اور قابل عمل ہے یا نہیں؟ الجواب : یہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مشہور حدیث ہے ، جس کی روایت مسلم (234) ابوداود (169) ترمذي ( 55) ابن ماجہ (470)وغیرہ نے کی ہے ۔ ابوداود شریف کے الفاظ یہ ہیں : ( عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « ما مِنكم  مِن أحدٍ يَتَوَضَّأ فيُحسِنُ الوضوءَ ثمَّ يقولُ حينَ يَفرُغُ من وضوئه : أشهَدُ أن لا إله إلا اللهُ وحدَه لا شريكَ له ، وأنَّ محمَّداً عبدُهُ ورسولُه ، إلا فُتِحَت له أبوابُ الجنَّةِ الثمانيةُ يَدخُلُ من أيِّها شاء  ). لیکن یہ زائد الفاظ : ( ثم رفع نظره الی السماء ) اس حدیث کے صرف بعض طرق واسانید میں وارد ہوئے ہیں ، اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ حضرت ثوبان اورحضرت انس  رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہیں ۔ مذکورہ زیادتی کی تفصیلی تخریج ملاحظہ فرمائیں : ۱۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت : ( ابوداود (۱۷

مشورہ کی دعا

كيا يہ مشوره كی دعاہے؟    ( اللّهم اَلهِمنا مَرَاشِدَ اُمورنا واَعِذنا مِن شُرور انفُسنا ومن سَيئا تِ اعمالنا ) ا س کا جواب مجھے مطلوب ہے الجواب  : اس دعا کے الفاظ  ترمذی شریف کی ایک طویل  حدیث میں اس طرح سےواردہوئےہیں : عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي: يَا حُصَيْنُ كَمْ تَعْبُدُ اليَوْمَ إِلَهًا؟ قَالَ أَبِي: سَبْعَةً سِتَّةً فِي الأَرْضِ وَوَاحِدًا فِي السَّمَاءِ. قَالَ: فَأَيُّهُمْ تَعُدُّ لِرَغْبَتِكَ وَرَهْبَتِكَ؟ قَالَ: الَّذِي فِي السَّمَاءِ. قَالَ: يَا حُصَيْنُ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَسْلَمْتَ عَلَّمْتُكَ كَلِمَتَيْنِ تَنْفَعَانِكَ. قَالَ: فَلَمَّا أَسْلَمَ حُصَيْنٌ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلِّمْنِيَ الكَلِمَتَيْنِ اللَّتَيْنِ وَعَدْتَنِي، فَقَالَ: قُلْ: اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي، وَأَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي . رواه الترمذ ی (3483). ترجمہ : حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے باپ ‏( حضرت حصین ‏) سے جو اس وقت تک ایمان و اسلام کی دولت س

کھڑے ہوکر پانی پینے کی قباحت

لوگوں ميں اس طرح کی ايک حديث مشہور ہے: نبی کريم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا : اگر تمہيں پتہ چل جائے کہ کھڑے ہو کر پانی پينے پرکتنا بڑا عذاب ہے، تو تم اپنے حلق ميں ہاتھ ڈال کر اس پانی کو نکال دو۔اور اگر اس وقت تم ديکھ لو کہ تمہارے ساتھ کتنی خوفناک شکل والا شيطان کھڑا ہے تو تم پانی پينا چھوڑ دو۔   اس کی تحقیق مطلوب ہے  الجواب : سوال میں مذکورہ الفاظ کے مطابق تو کوئی حدیث میرے علم میں نہیں ہے ، جس میں کھڑے ہوکر پینے پرعذاب کی وعید سنائی گئی ہو، یا شیطان کی خوفناکی کا تذکرہ ہو۔ہاں حدیث کے مفہوم کی تعبیرکسی نے اس طرح سے بیان کی ہو ، تو ممکن ہے۔ ویسے سوال میں دو حدیثوں کا ملا جلا مفہوم بیان کیا گیا ہے : پہلی حدیث یہ ہے : ( لَوْ يَعْلَمُ الَّذِي يَشْرَبُ وَهُوَ قَائِمٌ مَا فِي بَطْنِهِ لاَسْتَقَاءَهُ ) کھڑے ہوکر پینے والا اگر یہ جان لے کہ اس کے پیٹ میں کیا نقصان ہورہا ہے، تو وہ اس کوقے کرکے نکال دے ۔ [مسند احمد 7808 ]من حدیث ابی ھریرہ ۔ جی ہاں مسند بز ارمیں  اس حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں  : (  لو يعلم الذي يشرب قائما ماذا عليه لاستقاء ) [بزار 8050 ] ہوسکتاہے کہ

نہار منہ پانی پينے سے متعلق روايات

نہار   منہ پانی   پينے سے متعلق جوروايت آج  کل زبان زد عام ہے اس کی   تحقيق مطلوب ہے ، براہ کرم تحقيق عنايت فرمائيں الجواب     : کتب حدیث میں نہار منہ پانی پینے کے بارے میں مندرجہ ذیل روایات ہیں   : ‏(1) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا (  مَن شرِب الماءَ على الرِیقِ انتقصَت قُوته ) جس نے نہار مُنہ پانی پیا اس کی طاقت کم ہو گئی  ( المعجم الاوسط للطبرانی /حدیث/ 4646 ) ۔ ‏(2‏) حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی روایت میں بھی یہ ہی الفاظ    ہیں (  من شرب الماء على الريق انتقضت قوته ) جس نے نہار مُنہ پانی پیا اس کی طاقت کم ہوگئی  ( المعجم الاوسط للطبرانی /حدیث /6557 ) ۔ ‏(3) حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اُن سے فرمایا ( يا ابن عباس ألا أهدي لك هديةً علَّمني جبريلُ للحفظ ، تكتُب على طاسٍ بزعفران فاتحةَ الكتاب والمعوذتين وسورةَ الاخلاص وسورة يس والواقعة والجمعة والملك ، ثم تصُبُّ عليه ماء زمزم أو ماء السماء ، ثم تشربه على ا