Posts

Showing posts with the label تخریج وعلوم حدیث کے مضامین

من باع نخلا بعد التعبير کی تصحیح

  لغات الحديث ( 2 ) (افاضات امیری علی الترمذی) میں ایک جگہ یہ حدیث مذکور ہے : عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : " من باع نخلا بعد التعبیر ..." کذا فیہ ؟! اقول : اس میں دو غلطیاں ہیں ، ایک تو یہ لفظ علی الصواب ( التأبیر ) ہے ھمزہ سے ، تأبیر کے معنی ہیں :درختوں کو قلم لگانا ، گابھا دینا ، تلقیح کرنا ، یعنی نر کھجور کے درخت کی ٹہنی یا شگوفہ کو ، مادہ درخت میں ملانا ۔ اس کو "تعبیر" عین سے لکھنا غلط ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ صحیح وثابت روایات میں حدیث کے الفاظ : " من باع نخلا بعد أن تؤبَّـر " بعدیت کا صرف ذکر ہے ، تابیر سے قبل کے الفاظ ایک ضعیف وشاذ روایت میں وارد ہیں جو ثابت نہیں ہے ، اسی لئے حنفیہ اس سے استدلال نہیں کرتے ، اور ان کے نزدیک قبل و بعد دونوں کا حکم ایک ہے ، اور "تابیر" سے پھل کے ظہور کا معنی   مراد لیتے ہیں ۔ جبکہ شوافع وغیرہ ( بعد أن تؤبر ) کو قید احترازی قرار دیتے ہیں ، اور اس کے مفہوم مخالف سے استدلال کرتے ہوئے قبل وبعد کے حکم میں فرق کرتے ہیں ، لہذا اگر روایت ثابت ہوتی تو اختلاف کا مطلب ہی نہیں تھا ۔ واللہ اعلم   کتبہ ...

لا تنبر باسمي کا صحیح مطلب

  لغات الحديث   (1) جامع ترمذی شریف کی ایک (شرح) کے مقدمہ میں لفظ ( نبی ) کی اصل پر بحث کرتے ہوئے ، یہ حدیث پیش کی گئی ہے کہ : ایک اعرابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ( یا نبیء اللہ ) [ ھمزہ کے ساتھ ] تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لا تَنبِز باسمي  فإنما أنا نبي الله "   اور اس کی تشریح یہ کی کہ : مجھ پر عیب مت لگاؤ ، میں اللہ کا نبی ہوں ۔ اقول : یہ حدیث مستدرک حاکم(2906) میں ہے : جاء أعرابي إلى رسول الله ﷺ فقال : يا نبيء الله ، فقال : لست بنبيء الله ولكني نبيُّ الله . رواه الحاكم بسنده من طريق حُمران بن أعيَن عن أبي الأسود الدُّؤلي   عن أبي ذر . قال الذهبي في " تلخيص المستدرك " : حديثٌ منكر وحُمران رافضي ليس بثقة . انتهى. ایک اور روایت میں ہے : " إنا معشرَ قریشٍ لا نَنبِـر " ذکرہ فی "تاج العروس" ۔ یعنی قریش کی زبان میں ھمزہ صاف صاف نہیں بولا جاتا ہے ، بلکہ ھمزہ کو حروف مدہ سے بدل دیا جاتا ہے ، یا حذف کردیا جاتا ہے تسہیلا وتخفیفا ۔ یہ لفظ : " لا تَنبِر " بے نقطے والی راء سے ہے ، نبر ینبر [ باب...

نیک لوگوں کی بستی کا نام

  مولوی ادریس صاحب نے " دلیل الفالحین   " کی اس عبارت کے بارے میں دریافت کیا : ثم إن العالم دلّ السائلَ على ما فيه نفعُه بقوله: (انطلق إلى أرض كذا وكذا) اسمها : بصرى ، واسم القرية التي كان بها : كفرة رواه الطبراني. ليفارق دارَ الفساد وأصحابَه الذين كانوا يُعينونه عليه ما داموا كذلك. کہ دونوں بستیوں کے ناموں کا صحیح تلفظ کیا ہے ؟ الجواب : یہ اس شخص کے واقعہ میں ہے جس نے سو آدمیوں کا قتل کیا تھا ، پھر توبہ کی غرض سے اپنی بستی چھوڑ کر ، دوسری نیک لوگوں کی بستی کی طرف ہجرت کی نیت سے روانہ ہوا تھا ، اور راستہ میں انتقال ہوگیا تھا ۔ طبرانی نے "المعجم الکبیر" ۱۳/ حدیث ۷۶ پر حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا قول ان دونوں بستیوں کے ناموں کے سلسلہ میں ذکر کیا ہے : قال عبد الله : إن القرية الصالحة اسمها نصرة ، واسم الأخرى كفرة . نیک لوگوں کی بستی کا نام ( نَصَرَہ ) تھا ، اوپر "دلیل الفالحین" کی عبارت میں( بصری)  نام غلط ہے ، صحیح نون سے ہے ، جیساکہ مقدمہ "فتح الباری" ( ۱/۲۹۷ )اور "عمدۃ القاری"( ۱۶/۵۶ ) میں ہے ۔ امام صاغانی...

مباحث لغوية عن الحديا

باسمه تعالى المباحث اللغوية عن الحُـــدَ يَّـــا   الحُدَيّا : هو الطائر المعروف بالحِدَأة ، نوع من الجوارح معروف ، تنقَضُّ على الجرذان والدواجن والأطعمة واللحوم ونحوها ، وربما خطفت أشياء الناس ، وتمتاز بنظرها الثاقب، وسرعة طيرانها مما يتيح لها سرعة الانقضاض . ورد ذكرها بهذا الاسم (الحُدَيَّا) في الحديث في موضعين : (1) في قصة الوِشَاح مع المرأة السوداء : وهو ما أخرجه البخاري في كتاب مناقب الأنصار من حديث عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ لِبَعْضِ العَرَبِ وَكَانَ لَهَا حِفْشٌ فِي المَسْجِدِ، قَالَتْ: فَكَانَتْ تَأْتِينَا فَتَحَدَّثُ عِنْدَنَا، فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ حَدِيثِهَا قَالَتْ: وَيَوْمُ الوِشَاحِ مِنْ تَعَاجِيبِ رَبِّنَا ... أَلاَ إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الكُفْرِ أَنْجَانِي فَلَمَّا أَكْثَرَتْ، قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: وَمَا يَوْمُ الوِشَاحِ؟ قَالَتْ: خَرَجَتْ جُوَيْرِيَةٌ لِبَعْضِ أَهْلِي، وَعَلَيْهَا وِشَاحٌ مِنْ أَدَمٍ، فَسَقَطَ مِنْهَا، فَانْحَطَّتْ عَلَيْهِ الحُدَيَّا، وَهِيَ تَحْسِبُهُ لَحْمًا، فَأَ...