Posts

Showing posts from 2018

پانی پینے کی ویڈیو کے بارے میں میری رائے

ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے ، جس میں ایک سائنس دان نے پانی پینے کا ایک انوکھا طریقہ لوگوں کو بتاکر ، اس کی نسبت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی ہے ، اور اس کو پینے کا مسنون طریقہ بتایا ہے ، بہت سوں نے اس کی تحقیق طلب کی ہے ، تو عرض ہے کہ : اس ویڈیو میں سنت کے حوالے سے موصوف سائنس دان نے مندرجہ ذیل باتیں ذکر کی ہیں : 1- سیدھے ہاتھ سے پینا 2- بیٹھ کر پینا 3- بسم اللہ پڑھنا 4- تین سانس میں پینا 5- برتن میں سانس نہ لینا آخر الذکر سنت پر انہوں نے عرض کیا کہ : حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا ، اس کا معنی ہے کے سانس روک کر پیا جائے ، مگر کیا ہم میں سے کسی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ پانی پینے کے دوران سانس کیسے روکا جاتا ہے ؟ ہم میں سے کوئی سانس نہیں روکتا ، اس لئے بیمار ہیں ۔ پھر کہا : ابھی دیکھیے میں پانی کو کیسے پیتا ہوں ، میں پانی کو تین سانس میں پیوں گا ۔ پھر عملی طریقہ سمجھانے کے لئے انہوں نے گلاس منھ سے لگاکر پینا شروع کیا ، تقریبا 25 سیکنڈ تک سانس روکے ہوئے ایک مقدار پیتے رہے ، یہاں تک کہ سانس چڑھ گیا ، اس پر

کھانے کے بعد انگلیوں کے چاٹنے کا طریقہ

متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺتین انگلیوں (انگوٹھا، شہادت کی انگلی ،اور درمیانی انگلی )کے ذریعے کھایا کرتے تھے، اور جب تک انہیں چاٹ نہ لیتے تھے اس وقت تک اسے رومال سے صاف نہیں کرتے تھے۔ مسلم[ 2033 ] کی ایک روایت میں ہے :"   أَمَرَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالصَّحْفَةِ وَقَالَ : إِنَّکُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّهِ الْبَرَکَةُ " یعنی نبی ﷺنے انگلیاں چاٹنے اور پیالہ صاف کرنے کا حکم فرمایا، اور آپ ﷺنے فرمایا :تم نہیں جانتے کہ برکت کس حصے میں ہے۔ انگلیوں کے چاٹنے کی کیفیت کےسلسلہ میں روایات میں دو طرح کے الفاظ وارد ہوئے ہیں : ۱۔ یَلْعَقُ ، اکثر روایات میں ۔ [بخاری 5456 ،مسلم 2032،ابوداود 3848، ترمذی1803] ۲۔ یَمُصُّ ،[مصنف ابن ابی شیبہ 24447، مسند احمد14390]من حدیث جابررضی اللہ عنہ ۔ دونوں وارد الفاظ کی مناسبت سے امام بخاری نے کتاب الاطعمہ میں باب باندھا : بَابُ لَعْقِ الأَصَابِعِ وَمَصِّهَا قَبْلَ أَنْ تُمْسَحَ بِالْمِنْدِيلِ . پہلے لفظ ( یَلْعَقُ ) کا ترجمہ ہے: انگلیوں کا چاٹنا۔یعنی زبان باہر نکال کر انگلیوں پر پھیرنا

عید الاضحی میں کلیجی کھانے سے ابتدا کرنا

مدرسہ اسلامیہ کنز مرغوب ، پٹن سے مولوی عبدالرحمن پٹنی صاحب نے دریافت کیا کہ :  یہ تحریر آجکل وائرل ہو رہی ہے  کہ : سب سے پہلے کلیجی کہانا سنت ہے؛ نبی کریم کا معمول تھا کہ نماز عید الاضحی سے فارغ ہونے کے بعد اپنے دست مبارک سے قربانی کے جانور کو ذبح فرماتے اور کلیجی پکانے کا حکم دیتے، جب وہ تیار ہوجاتی تو اس سے تناول فرماتے ۔ قربانی کرنیوالے کے لئے سنت ہے کہ قربانی کے گوشت میں سے سب سے پہلے کلیجی کھائے کہ اس میں نبی پاک کے عمل سے مشابہت اور نیک شگون ہے؛ کیونکہ اہل جنت کو جنت میں سب سے پہلے اس مچھلی کی کلیجی کھلائی جائے گی جس پر زمین ٹھیری ہوئی ہے۔ (المدخل1/125) ۔ اس سلسلہ میں جب تحقیق کی گئی تو ایک حدیث میں کلیجی کے کھانے کا تذکرہ ملا ، وہ یہ ہے : عن بريدة بن الحصيب الأسلمي قال : كانَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ إذا كانَ يومُ الفطرِ لم يخرُج حتَّى يأكلَ شيئًا ، وإذا كانَ الأضحى لم يأكُل حتَّى يرجِعَ ، وَكانَ إذا رجعَ أَكلَ من كبدِ أضحيَتِهِ ۔ الذهبي (٧٤٨ هـ)، المهذب ٣/١٢١٩   •   لم يتابع عليه   •   أخرجه أحمد (٢٢٩٨٤)، والدارمي (١٦٠٠) بنحوه، والبيهقي (

من ترک سنتی لم ینل شفاعتی کی تحقیق

سوال : یہ ایک حدیث ہماری بعض فقہ واصول کی کتابوں میں ذکر کی جاتی ہے : " من ترک سنتی لم تنلہ شفاعتی " اس کی تحقیق مطلوب ہے ۔ الجواب :   جی یہ حدیث مختلف الفاظ سے ہماری کتابوں میں سنن مؤکدہ کے ترک ، یا مکروہ تحریمی کے ارتکاب کے سلسلہ میں بطور وعید پیش کی جاتی ہے ، اگرچہ روایت کے الفاظ مطلق ہیں ، بہر حال : یہ الگ بحث ہے ، فی الحال تو روایت کے ثبوت کی بات ہے ۔ مجھے اس طرح کی وعید ( شفاعت سے محرومی ) پر مشتمل تین روایتیں ملی ہیں : پہلی روایت : جو شاید سب سے اقرب ہے : اس کی روایت خطیب بغدادی نے « تاریخ بغداد  »میں کی ہے ، اور وہ یہ ہے : أَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو الْعَلاءِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَعْقُوبَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَرَجِ الْخَلالُ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ عُبَيْدَةَ قَدِمَ عَلَيْنَا لِلْحَجَّ سَنَةَ عَشْرَةَ وَثَلاثِ مِئَةٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُوَيْدُ