Posts

Showing posts from March, 2018

اذان یا اقامت کے وقت ( مرحبا بالقائلین عدلا ) کہنا

اس سلسلہ میں روایات دو طرح کی ہیں : ایک مرفوع روایت ہے ، جس میں ان الفاظ کے پڑھنے کا ثواب بھی مذکور ہے ۔ دوسری روایت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پرموقوف ،جو ان کےاپنے   عمل وکلمات ہونے پر دال ہے   ۔ اولا : مرفوع روایت : مرفوع روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے ، جو آل بیت کی سند سے بواسطہ حضرت جعفر صادق مروی ہے، اور وہ روایت کرتے ہیں   ان کے والدسے ، وہ ان کے دادا سے ، کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (من سمع المنادي بالصلاة فقال: مرحبًا بالقائلين عدلًا ، مرحبًا بالصلاة وأهلًا؛ كتب اللهُ له ألفي ألف حسنة ، ومحا عنه ألفي ألف سيئة ، ورفع له ألفي ألف درجة). ترجمہ : جس نے مؤذن کی ندا کے وقت یہ الفاظ کہے : خوش آمدید انصاف کا بول بولنے والوں کے لئے ، خوش آمدید نماز کی آمد پر ، اس کے لئے اللہ تعالی بیس لاکھ نیکیاں لکھتے ہیں ، اور اس سے بیس لاکھ گناہ مٹاتے ہیں ، اور اس کے لئے بیس لاکھ مرتبے بلند فرماتے ہیں ۔ تخریجہا : الزيادات على الموضوعات (1/ 402) ، تاريخ بغداد (13/ 39)۔ مرفوع روایت کا حال :   روایت موضوع اور بے اصل ہے ، اس کی دو اسانید ہیں ، اور دونوں غیر معتبر ہیں

کیا ایک سانس میں پینا خلاف سنت ہے ؟

کیا ایک سانس میں پینا خلافِ سنت ہے ؟ ایک سوال آیا ہے کہ :   کیا تین سانس میں پینا ہی سنت ہے ، اور دو سانس یا صرف ایک ہی سانس میں   پوری مقدار پی لینا خلافِ سنت اورممنوع ہے ؟ الجواب : دیکھئے کسی بھی مسئلہ میں صحیح جواب اُسی وقت دے سکتے ہیں جب اس مسئلہ میں وارد دلائل اور نصوص شرعیہ کا حد الامکان احاطہ کیا جائے ، ایک دو روایات کو سامنے رکھ کر مسئلہ کا صحیح تصور نہیں ہوتا ، اس لئے جواب بھی ناقص ہوتا ہے ، اور مستفتی کو مسئلہ بھی ادھورا معلوم ہوتاہے ۔ بعض کتابوں میں جو لکھا   ہوا ہوتا ہے کہ :ایک سانس میں پینا منع ہے ، یا تین سانس میں پئیں ایک میں نہیں ، تواس سلسلہ میں عرض ہے کہ : اس باب میں روایات کو اگر مدّ نظر رکھا جائے تو مسئلہ کے مختلف پہلو سامنے آئیں گے ، اور جواب تفصیلی ہوگا ، اور بعض صورتوں میں ایک سانس میں پینے کے جواز کا پہلو بھی نکلے گا ۔ روایات اس باب میں ۳ طرح کی ہیں : ۱۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل بتلانے والی : ۱۔   عَنْ أَنَسٍ   رضي الله عنه  قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَ