Posts

گھر میں داخل ہوتے وقت سورہ اخلاص پڑھنے کی فضیلت

سوال : ایک حدیث مبارکہ سننے میں آ رہی ہے کہ : " جو شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت پہلے سلام کرے پھر درود شریف پڑھے اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرے، اس کے اوپر اللہ تعالیٰ رزق کے دروازے بارش کی طرح کھول دے گا ". اس کی تحقیق مطلوب ہے ۔ الجواب : گھر میں داخل ہوتے وقت سورہ اخلاص کی تلاوت کے متعلق روایت ، پانچ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے منقول ہے ، تفصیل ملاحظہ فرمائیں : (۱) حديث سهل بن سعد رضي الله عنه ، ورد بإسنادين : السند الأول : أخبرنا أبو عمرو أحمد بن أبي أحمد الفُراتي ، قال: حدّثنا عبد الله بن محمد بن يعقوب قال: حدثنا عبد الله بن جامع الحُلواني ، قال :حدثنا محمد بن العباس، قال حدثنا عمر بن سعد العطار القُلزمي، قال :حدثنا ابن أبي ذئب، قال :حدثنا محمد بن عجلان ،عن أبي حازم عن سهل بن سعد قال: جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فشكا إليه الفقر وضيق المعاش فقال له: رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا دخلتَ بيتَك فسَلِّم إن كان فيه أحدٌ ، وان لم يكن فيه أحد فسلّم عليّ ، وأقرأ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ مرة واحدة» ففعل الرجلُ فأدرَّ الله عليه ...

جزی اللہ محمدا عنا ما ھو اھلہ کی فضیلت

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ جَزَى اللهُ مُحَمَّدًا عَنَّا مَا هُوَ أَهْلُهُ أَتْعَبَ سَبْعِينَ كَاتِبًا أَلْفَ صَبَاحٍ» حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ‘‘ جس نے یہ کہا : { جَزَی اﷲُ   مُحَمَّدًا عَنَّا بِمَا هُوَ أَهْلُهُ }  ‘‘ اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ جزائے خیر عطا فرمائے، جس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل ہیں ’’۔‘‘ تو گویا اس نے ہزار صبحوں تک ستر (ثواب لکھنے والے) فرشتوں کو تھکا دیا ’’. اس حدیث کی تحقیق مطلوب ہے (از مولوی اسماعیل نوساری صاحب)۔ الجواب : یہ حدیث تین اسانید سے وارد ہے : ۱۔   هَانِئ بْن الْمُتَوَكِّلِ قَالَ : حدثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ به .   تخریج : رواه الطبراني في "المعجم الأوسط" (235) ، وفي "المعجم الكبير" (11509) ، وأبو نُعيم في "الحِلية" (3/206) ، وإسماعيل ...

لا ادری نصف العلم کی تحقیق

سوال: « لا ادری نصف العلم » کیا یہ حدیث کے الفاظ ہیں؟ اور اس سے مرادکیا ہے؟ الجواب : یہ حدیث مرفوعا تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہے ، البتہ بعض صحابہ و تابعین سےاس طرح کے الفاظ یا ان کا مفہوم مروی ہے، اس لئے پہلے روایات پیش کی جائیں گی ، پھر مطلب کے بارے میں بحث ہوگی ۔ مطلب واضح کرنے کی غرض سے چند اور باتوں پر بھی بحث کی جائے گی ، جن کے بارے میں ( نصف العلم ) کہا گیا ہے ۔ صحابہ کرام کی روایات : ۱۔حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ :   قال أبو عمر بن عبد البر: صح عن أبي الدرداء - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أنه قال: لا أدري نصفُ العلم . [ الانتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء ص: 38 ] حضرت ابو الدرداء   رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے کہا : « میں نہیں جانتا »کہنا ،علم کا آدھا حصہ ہے ۔ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : قَوْلُ الرَّجُلِ فِيمَا لَا يَعْلَمُ " لَا أَعْلَمُ " نِصْفُ الْعِلْمِ . [ الذخيرة للقرافي 1/ 52] حضرت ابو الدرداء   رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آدمی کا اس بات کے بارے میں کہنا جس کو وہ نہیں جانتا   « مجھے   مع...