لا ادری نصف العلم کی تحقیق
سوال: « لا ادری نصف العلم » کیا یہ حدیث کے الفاظ ہیں؟ اور اس سے مرادکیا ہے؟ الجواب : یہ حدیث مرفوعا تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہے ، البتہ بعض صحابہ و تابعین سےاس طرح کے الفاظ یا ان کا مفہوم مروی ہے، اس لئے پہلے روایات پیش کی جائیں گی ، پھر مطلب کے بارے میں بحث ہوگی ۔ مطلب واضح کرنے کی غرض سے چند اور باتوں پر بھی بحث کی جائے گی ، جن کے بارے میں ( نصف العلم ) کہا گیا ہے ۔ صحابہ کرام کی روایات : ۱۔حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ : قال أبو عمر بن عبد البر: صح عن أبي الدرداء - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أنه قال: لا أدري نصفُ العلم . [ الانتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء ص: 38 ] حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے کہا : « میں نہیں جانتا »کہنا ،علم کا آدھا حصہ ہے ۔ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : قَوْلُ الرَّجُلِ فِيمَا لَا يَعْلَمُ " لَا أَعْلَمُ " نِصْفُ الْعِلْمِ . [ الذخيرة للقرافي 1/ 52] حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آدمی کا اس بات کے بارے میں کہنا جس کو وہ نہیں جانتا « مجھے مع...