رفع عن امتی الخطا والنسیان کے الفاظ ثابت نہیں
باسمه تعالى حديث (رفع عن أمتي الخطأ والنسيان) لا يثبت حفاظ کے پروگرام میں یہ حدیث عرض کی تھی ( رفع عن أمتي الخطأ والنسيان ) لیکن بعد میں تخریج کی کتابوں کی طرف رجوع کرنے سے یہ معلوم ہوا کہ : یہ الفاظ حدیث کی کتابوں میں وارد نہیں ہیں ، بلکہ اصل الفاظ یہ ہیں : 1- ( إن الله وضع عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه ) . 2- ( إن الله تجاوز لي عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه ). یہ دونوں الفاظ بروایت حضرت ا بو ذر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تخریج ابن ماجہ نے "سنن" میں کی ہے ۔ نیز عقبہ بن عامر ،ثوبان،ابن عمر ، ابو الدرداء ،اور ابو بکرہ رضی اللہ عنہم سے بھی مختلف اسانید سے مروی ہے۔امام زیلعی نے (نصب الرایہ۲/۶۴) میں مذکورہ روایات کی تخریج کی ہے۔اور عموما اس حدیث کی اسانید میں ضعف پایا جاتاہے۔ یہ روایت فقہ کی کتابوں میں عموما کتاب طلاق المکرہ میں ذکر کی جاتی ہے ۔ پھر اتفاقا اس حدیث کی تحقیق تاج الدین سبکی کی "طبقات الشافعیہ" میں دیکھی ، تو بہت مفید معلوم ہوئی اس لئے یہاں پر نقل کرتاہوں : قال تاج الدين السبكي : حديثُ « رفع ع...