Posts

کیا اللہ تعالی نے حضور کے جنازہ کی نماز پڑہی ؟

ایک واعظ صاحب نے اپنے وعظ کے دوران یہ روایت بیان کی کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سےصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا کہ : آپ کے انتقال کے بعد آپ کی نماز جنازہ کون پڑھائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم لوگ میری تغسیل وتکفین سے فارغ ہوجاؤ ، تو مجھے چار پائی پر لٹاکر مسجد سے باہر نکل جانا ، اس لئے کہ میری نماز جنازہ سب سے پہلے اللہ تعالی پڑھیں گے ، پھر فرشتے ۔۔۔الخ مجھے یہ دریافت کرنا ہے کہ کیا یہ روایت اس طرح سےصحیح ہے کہ اللہ تعالی نے حضور کی نماز پڑھی؟ الجواب : یہ روایت تفسیر حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں تین صحابہ کرام سے منقول ہے :حضرت جابر بن عبد اللہ ، حضرت ابن عباس ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم ۔ لیکن ان روایتوں کی اسانید سب شدید الضعف بلکہ موضوع  ومن گھڑت ہیں ، ان میں سے کوئی بھی روایت قابل اعتبار نہیں ہے ، جس کی تفصیل یہ ہے : ۱۔ حضرت جابر بن عبد اللہ وابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کا حال : اس روایت کی تخریج امام طبرانی نے (المعجم الکبیر ۳/ ۵۸) میں ، اور ان کے واسطےسے امام ابونعیم نے (حلیہ۴ / ۷۳)میں ،اور امام ابن الجوزی نے(...

اتقوا مواضع التهم كى تحقيق

( اتَّقُوا مَوَاضِعَ التُّهَمِ ) کے بارے میں تحقیق مطلوب ہے ،کیا یہ حدیث ثابت ہے ؟ جواب : یہ حدیث مذکورہ  الفاظ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سےمرفوعا تو ثابت نہیں ہے ، جیساکہ امام عراقی نے "تخریج احیاء "میں ذکر کیا ہے [ کشف الخفا للعجلونی ۱/۴۴]۔ لیکن اس کے مفہوم کی تایید میں بعض روایات وارد ہوئی ہیں ، ان میں سے چند روایات  یہ ہیں : 1- حديث ( ... عَلَى رِسْلِكُمَا ، إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ . فَقَالَا : سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؛ وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : (إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنْ الْإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا) . رواه البخاري 2035ومسلم 2175. ترجمہ مع اصل الواقعہ : حضرت صفیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام اعتکاف کی حالت میں تھے ، میں رات کے وقت ملاقات کے لئے بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی ،کچھ دیرباتیں کرنے کے بعد میں اٹھ کھڑی ہوئی ،نبی علیہ السلام بھی مجھے چھوڑنے کے لئے میرے ساتھ آئے ، میری رہائش اس وق...

حضرت عمر فاروق کا بیٹی کو زندہ درگور کرنے کا واقعہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اپنی بیٹی کو زندہ درگور کرنے کے واقعہ کی حقیقت میرا سوال ہے کہ : کیا یہ بات ثابت ہے کہ : حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے  جاہلیت کے زمانہ میں اپنی بیٹی کو زندہ درگور (دفن ) کیا تھا  ؟ جواب : قرآن کریم سے یہ تو ثابت ہے کہ جاہلیت میں بعض عرب ایسا کرتے تھے ، جیساکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : ( وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثَى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ (58) يَتَوَارَى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ أَيُمْسِكُهُ عَلَى هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ (59) [ النحل ] وقال : ( وَإِذَا المَوْؤُودَةُ سُئِلَتْ (9) بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ  (10) [التكوير ]   . لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اس طرح کے فعل کی نسبت باطل اور سراسر جھوٹ ہے ، اس میں روافض کا  دخل بھی ہوسکتاہے ۔ اس لئے کہ یہ بات تاریخ سےثابت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی پہلی بیوی تھیں : حضرت زینب بنت مظعون رضی اللہ عنہا ، ان سے حضرت عمر کی اولاد میں سے : ام المؤمنین حضرت حفصہ  ،عبد اللہ...

جوان کی توبہ سے عذاب قبر کا رفع ہونا

جوان کی توبہ سے عذاب قبر رفع ہونا ایک پوسٹ نیٹ پر گردش کررہی ہے جس میں ایک یہ بات حدیث بتا کر ذکر کی گئی ہے کہ : " جوان آدمی جب توبہ کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اللہ تعالی مشرق اور مغرب کے درمیان سارے قبر والوں سے عذاب چالیس دن کے لئے ہٹا دیتے ہیں " ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث نہیں ہے اور نہ ہی حدیث کی کسی کتاب میں مذکور ہے، یہ من گھڑت معلوم ہوتی ہے ، اور اس کو " سنن ابن ماجہ " کی طرف منسوب کرنا بھی بالکل غلط اور جھوٹ ہے   ۔ اس کے مفہوم میں ایک اور بے اصل حدیث نقل کی جاتی ہے  :  ( ﺇﻥ ﺍﻟﻌﺎﻟﻢَ ﻭﺍﻟﻤُﺘﻌﻠﻢ ﺇﺫﺍ ﻣَﺮّﺍ ﺑﻘﺮﻳﺔ ﻓﺈﻥ ﺍﻟﻠﻪ ﻳﺮﻓﻊُ ﺍﻟﻌﺬﺍﺏَ ﻋﻦ ﻣﻘﺒﺮﺓ ﺗﻠﻚ ﺍﻟﻘﺮﻳﺔ ﺃﺭﺑﻌﻴﻦ ﻳﻮﻣﺎ ً ‏) . قال السیوطي في "تخریج أحادیث شرح العقائد" : لا أصل له (كشف الخفاء 672)   وأقره عليه الملا علي القاري في کتابه "فرائد القلائد في تخریج أحادیث شرح العقائد" وكذلك في "المصنوع" ص 65 ۔ اس لئے اسے بھی حدیث سمجھنا یا اس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا باعث گناہ ہے ۔  اس سے بچنا چاھئے ۔

شفا کے لئے بارش کے پانی پر پڑھنے کا عمل

سوال :ایک روایت کی صحت معلوم کرنی ہے کہ : حضرت جبریل علیہ السلام نے حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ عمل بتایا کہ : بارش کے پانی پر جو شخص ستر ۷۰ بار سورہ فاتحہ،سورہ اخلاص ، اور معوذتین پڑھ کر ، اس پانی کو سات دن تک صبح شام پئے ، تو اس کو ہر بیماری سے شفا حاصل ہوگی ۔ جواب : یہ عمل اس ترکیب کے ساتھ عموما روافض کی کتابوں میں نیسان ( سریانی شمسی تقویم میں چوتھے ) مہینے کے اعمال ووظائف میں ملتاہے ۔ رافضی عالم مجلسی کی کتاب ( بحار الأنوار ) میں یہ عمل حسین بن حسن بن خلف کاشونی کی کتاب ( زاد العابدین ) کے حوالے سے منقول ہے ، اور سند اس طرح سے مذکور ہے : قال الکاشونی : أخبرنا الوالد أبو الفتح ، حدثنا أبوبکر محمد بن عبدالله الخشابی البلخی ، حدثنا أبو نصر محمد بن أحمد بن محمد الباب حریزی ، أخبرنا أبو نصرعبدالله بن عباس المذکر البلخی ، حدثنا أحمد بن أحید ، حدثنا عیسی بن هارون ، عن محمد بن جعفر بن عبد الله بن عمر ، حدثنا نافع ، عن ابن عمر ....فذكره سند مذکورعلی فرض ثبوتہ کے بعض رواۃ اواخر سند میں معروف ہیں ، باقی مجاہیل یا ضعفاء ہیں ، خصوصا اوائل سند میں مذکورہ روا...

کیا کھانے سے پہلے اور اخیر میں نمکین چیز کھانا سنت ہے؟

جواب: کھانے میں نمکین سے ابتدا و اختتام سنت نہیں، جیساکہ بعض کتابوں (شامی ، عالمگیری،اور الدر المنتفی وغیرہ میں کھانے کے منجملہ آداب وسنن) میں لکھا ہوا ہے، اسلئے کہ اس بارے میں جتنی   احادیث ہیں وہ سب موضوعہ ہیں، لہذاا ُ س کو سنت قرار دینا تسامح (غلطی ) ہے۔ (احسن الفتاوی 9/91) بہرحال یہ سنت تو دور مستحب بھی   نہیں ہے، اسلئے کہ کسی بھی حکم کے اثبات کے لئے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے خواہ مستحب ہی ہو، اور یہاں کوئی معتبر دلیل نہیں ہے، اور مذکورہ بالا احادیث سے کسی بھی حکم کا ثبوت اصولی اعتبار سے درست نہیں! لہذا ان دلیلوں سے حجت پکڑنا صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ روایات ایسی شدید ضعیف ہیں جس سے استحباب ثابت کرنا اصول کے خلاف ہے، بلکہ اسی وجہ ( روا ت کے مجہول و وضّاع ہونے کی وجہ ‍) سے کئی لوگوں نے اس سلسلے کی احادیث کو موضوع قرار دیا ہے ۔ رہی بات بعض اکابرین کی، کہ انہوں نے اپنی کتب وغیرہ میں اِسے سنت یا مستحب لکھا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ: اکابر کی تحقیق سر آنکھوں پر، لیکن در حقیقت یہاں تحقیق نہیں ہے، بلکہ ’’عالمگیری‘‘ کے جزئیہ "البدء بالملح والختم بالملح" کی توضیح ہے، حا...

کنت کنزا مخفیا ...کی تحقیق

" کنت کنزا مخفیا ... الخ " کا جو فقرہ حدیث قدسی کے عنوان سے مشہور ہے، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی بھی سند سے ثابت نہیں ہے۔ علامہ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "  کنت کنزا لا أُ عرَف فأحببتُ أن أُعرَف    ... قال ابن تیمية : إنه لیس من کلام النبي صلی الله عليه وسلم ، ولا یعرف له سندٌ صحیح ولا ضعیف ، و تبعه الزرکشيُّ و شیخُنا ( یعنی ابن حجر ) "(المقاصد الحسنہ   للسخاوی ص327) ۔ نیز علامہ عجلونی نے بتایا ہے کہ صرف علامہ ابن تیمیہ ہی نہیں، حافظ ابن حجر، علامہ زرکشی اور علامہ سیوطی نے بھی یہی کہا ہے کہ :اس روایت کی کوئی سند نہیں ہے نہ صحیح، نہ ضعیف ۔ (کشف الخفاء للعجلونی 2/173) اور اسنی المطالب (ص ۲۴۳) میں لکھا ہے کہ : اس حدیث کو بعض صوفیاء تساہلاً حدیث قدسی کے طور پر ذکر کرتے ہیں ۔اور علامہ آلوسی روح المعانی (سورہ ذاریات) میں فرماتے ہیں  : ومن يرويه من الصوفية معتر فٌ بعدم ثبوته نقلا لكن يقول : إنه ثابت كشفا ً . البتہ آ یت کریمہ میں ضرور وارد ہوا ہے کہ : { وَمَا خلقتُ الجنَّ و الإنسَ إلا لیَعبُدون ) جس کی تفسیر : (لیعرفون)  سے م...