Posts

Showing posts with the label سيرة النبى

حضور کی چادر

مُلاءةُ الرَّسول (حضور کی چادر) سوال : حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی غربت اور فقر کے متعلق ایک مشہور روایت ہے کہ : حضور ایک صحابی کے ساتھ ان کے گھر آئے تو پردہ کے لئے ان کے پاس کپڑا نہیں تھا ،   تو حضور نے اپنی چادر اندر بھیجی ... الخ   اس روایت کی تحقیق اور عربی عبارت ارسال فرمادیں . الجواب : یہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے ، واقعہ طویل ہے ۔ اس میں سے مطلوبہ عبارت یہ ہے : قَالَ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ  ، عَن عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قال :خَرَجْتُ يَوْمًا فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَقَالَ لِي: " يَا عِمْرَانُ إنَّ فَاطِمَةَ مَرِيضَةٌ فَهَلْ لَكَ أَنْ تَعُودَهَا " قَالَ: قُلْتُ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي وَأَيُّ شَرَفٍ أَشْرَفُ مِنْ هَذَا قَالَ: " انْطَلِقْ " فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَى الْبَابَ فَقَالَ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أأَدْخُلُ؟ " فَقَالَتْ: وَعَلَيْكُمُ ادْخُلْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَ...

اني لا انسى ولكن انسى

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته : إني لا أَنسَىٰ ، بل أُنَسّىٰ لأَسُنَّ اس حدیث کی کوئی اصل ہے ؟ الجواب : " إني لا أَنسَىٰ ، بل أُنَسّىٰ لأَسُنَّ " ترجمہ : میں بھولتا نہیں ہوں ،بلکہ بھلایا جاتاہوں، تاکہ جوخطا واقع ہوئی اس کی تلافی کا مسنون طریقہ تم کو سکھاؤں۔ اصل مصدر: یہ حدیث ان چار احادیث میں سے ہے ، جن کو امام مالک نے " موطأ " میں بلاغاً  ذکر کیا ہے ، یعنی امام مالک نے  " بلغنى عن رسول الله " کہہ کر بیان کی ہے ، موطأ میں تقریباً (42) بلاغات ہیں ، اور بلاغاتِ مالک کا شمار در اصل (معلّق) احادیث میں ہوتا ہے جومنقطع احادیث کی قسموں میں سے ایک قسم ہے، کیونکہ امام مالک کا شمار تبع تابعین میں ہے ، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک روایت کرنے کے اعتبار سے دو واسطوں سے پہنچتے ہیں،ایک واسطہ تابعی کا ،اوردوسرا واسطہ صحابی کا۔لیکن بلاغ میں یہ دو واسطے مذکور نہیں ہوتے ہیں، امام مالک کہتے ہیں :بلغنی عن رسول اللہ انہ قال کذا۔ معلق کی تعریف : مُعَلَّق اس حدیث کو کہتے ہیں جس میں مصنفِ کتاب کی جانب سے سند متصل نہ ہو، بلکہ متعددواسطوں کے سقوط ک...

سات چیزیں حضور کے سرہانے رہتی تھیں

سات چیزیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے رہتی تھیں سوال : کیا یہ روایت صحیح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے سات چیزیں اکثر ہوتی تھیں :کنگھی ، مسواک ، سرمہ ،آئینہ   ... الخ الجواب : یہ روایت حضرت عائشہ ، حضرت ام سعد ،حضرت ابو سعید خدری، حضرت انس بن مالک رضی اللہ ع نہم سے منقول ہے ۔ نیز ایک مرسل روایت حضرت خالد بن معدان رحمہ اللہ سے بھی نقل کی جاتی ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت : تین اسانید سے وارد ہے : (۱)   پہلی سند :عروہ بن زبیر عن عائشہ        (۲) دوسری سند :ہشام بن عروہ عن ابیہ عن عائشہ (۳) ابراہیم بن ابی عبلہ عن ام الدرداء الصغری عن عائشہ پہلی سند کا متن : " كان لا يفارق مسجدَ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مسجدَ بيته سواكه ومُشطه، وكان ينظر في المرآة أحيانا، ويُسرِّح لحيته أحيانا ويأمر به " .   سند کی تخریج : أخرجه الطبراني في "الأوسط" (6363) وابن عدي في "الكامل" (3/1102) والبيهقي في "الشعب" (6071) . سند کا حال : سند میں سلیمان بن ارقم مجروح راوی ہے ۔ قال البيهقي: سليمان بن ...

انگلی کے اشارے سے چاند کے ٹکڑے ہونا

شق القمر محترمی مولوی آصف صاحب بمبوی زید مجدہم نے دریافت کیا کہ: معجزۂ شق القمر کے حوالے سے لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے اشارہ سے چاند دو ٹکڑے ہوا ، لیکن مفتی شبیراحمد قاسمی صاحب کے فتاوی(فتاوی قاسمیہ)میں ایک سوال کے جواب میں اس کی تردید کرتے ہوئے مفتی موصوف نے لکھا ہے کہ: انگشتِ مبارک کا اشارہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے ، یہ سب غیر معتبر باتیں ہیں،ہاں البتہ کفار نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا ، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی سے دعا کی تھی ، جس سے چاند دو ٹکڑے ہوگیا تھا ۔ قَالَ الْمُشْركُونَ للنَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: إِن كنت صَادِقا فاشقق لنا الْقَمَر. فَقَالَ: إن فعلت تؤمنون؟ قَالُوا: نعم، وَكَانَت لَيْلَة الْجُمُعَة، فَسَأَلَ الله تَعَالَى فانشق فرْقَتَيْن: نصف على الصَّفَا وَنصف على قعيقعان... الحَدِيث، [عمدة القاري شرح صحيح البخاري (19/ 207)] وقد شاع » أن النبي صلى الله تعالى عليه وسلم أشار إلى القمر بسبابته الشريفة فانشق » ولم أره في خبر صحيح ، والله تعالى أعلم. [تفسير الألوسي = روح المع...